ہمارا مشن
میری باجی ایک دکان ہے۔ مگر یہ کبھی صرف دکان بننے کے لیے نہیں بنی تھی۔
ہم سب کے آس پاس ایک ایسا گھر ضرور ہے جہاں ساری ذمہ داری ایک عورت اکیلی اٹھا رہی ہے۔ کہیں شوہر رہا نہیں۔ کہیں شوہر ہے، مگر نشے نے اُسے گھر کا نہیں رہنے دیا۔ بچے ہیں جن کی اِس مہینے کی فیس دینی ہے، اور ایک ماں ہے جو زبان سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ پیسے نہیں ہیں۔
وہ مانگے گی نہیں۔ تکلیف اِسی بات کی ہے۔ وہ اپنی چوڑیاں بیچ دے گی، پڑوسن سے اُدھار لے لے گی جو وہ لوٹا نہیں سکتی، بچوں کو جلدی سلا دے گی تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ آج رات کھانا نہیں پکا — مگر ہاتھ نہیں پھیلائے گی، کیونکہ مانگنے میں وہ اکلوتی چیز چلی جاتی ہے جو اُس کے پاس بچی ہے۔
میری باجی اِسی لیے ہے، تاکہ اُسے اِس طرح مانگنا نہ پڑے۔
یہ نام کیوں
ہمارے گھروں میں باجی کوئی عہدہ نہیں ہوتا۔ باجی وہ ہوتی ہے جس کے پاس آپ تب جاتے ہیں جب اور کہیں جانے کو جگہ نہ ہو۔ وہ نصیحتیں نہیں کرتی۔ محلے میں بات نہیں پھیلاتی۔ پہلے کھانا کھلاتی ہے، سوال بعد میں پوچھتی ہے — اور آپ اُس کے گھر سے نکلتے ہیں تو دوبارہ انسان محسوس ہوتے ہیں۔
بس یہی سارا خیال ہے۔ کوئی دفتر اور فارم نہیں۔ ایک دروازہ، جس پر نظریں جھکائے بغیر دستک دی جا سکے۔
منافع کے ہر روپے کا آدھا
اِس کاروبار کی کمائی کا آدھا حصہ اِسی کام کے لیے ہے۔ آپ جو ادا کرتے ہیں اُس کا آدھا نہیں — بلکہ مصالحے، پیکنگ اور کورئیر کا خرچ نکالنے کے بعد جو بچتا ہے، اُس کا آدھا۔ سچ یہی ہے، اور ہم متاثر کن جملے کے بجائے سچا جملہ لکھنا بہتر سمجھتے ہیں۔
باقی آدھا واپس کاروبار میں جاتا ہے۔ یہ کوئی کم درجے کا مقصد نہیں۔ جو کاروبار بڑھے گا نہیں وہ اگلے سال کسی کے کام نہیں آ سکے گا، اور جو وعدہ پیسے ختم ہونے پر ٹوٹ جائے، وہ نہ کرنے سے بھی بدتر ہے۔
تو جب آپ ہلدی کا ایک پیکٹ خریدتی ہیں، آپ خیرات نہیں دے رہیں۔ آپ مناسب قیمت پر اچھا مصالحہ خرید رہی ہیں — اور اُس سے جو ہمیں ملتا ہے، اُس کا آدھا وہاں جاتا ہے جہاں ضرورت ہے۔
خیرات نہیں — موقع
ایک بار ہاتھ میں رکھے ہوئے پیسے صرف اِس مہینے کا مسئلہ حل کرتے ہیں۔ اگلے مہینے وہی عورت پھر اُسی دروازے پر ہوتی ہے، پہلے سے تھوڑی اور چھوٹی ہو کر۔ ہم یہ نہیں بنانا چاہتے۔
ہم یہ بنانا چاہتے ہیں: وہ کچھ سیکھے، کام کرے، کمائے، بچت کرے، اور ایک دن کسی اور کو روزگار دے۔ ہنر، پھر کام، پھر آمدنی، پھر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا۔ خیرات اُس دن ختم ہو جاتی ہے جس دن پیسہ رک جائے۔ ہنر ختم نہیں ہوتا۔
اِس لیے ہماری مدد اِسی راستے کی طرف ہے — تربیت، اوزار، پہلا آرڈر، بچوں کی فیس تاکہ اگلی نسل وہاں سے شروع کرے جہاں تک یہ نسل پہنچی۔ اور جہاں واقعی علاج کی ضرورت ہو، وہاں مستند ڈاکٹروں کے ذریعے — اپنے اندازوں سے نہیں۔
خاص طور پر عورتوں کے لیے
جن عورتوں کی بات ہم کر رہے ہیں، اُن میں سے اکثر شہر کے دوسرے کونے میں نوکری نہیں کر سکتیں۔ کسی کے بچے چھوٹے ہیں۔ کسی کو گھر والوں کی بات کا ڈر ہے۔ اور کہیں واقعی محفوظ نہیں۔
اِن میں سے کسی بات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کما نہیں سکتی۔ پیکنگ، تولنا، چھانٹی، سلائی، کھانا، پڑھانا، دستکاری — اِن سب میں باعزت آمدنی ہے، اپنے گھر سے بھی، اور ایسی جگہ سے بھی جہاں اُس کی عزت ہو اور وہ اندھیرا ہونے سے پہلے گھر پہنچ جائے۔
چار دیواری اِس بات کی حد نہیں ہونی چاہیے کہ ایک عورت کیا بن سکتی ہے۔
نہ سفارش، نہ رعایت، نہ کوئی استثنا
اِس اصول پر ہم سب سے زیادہ سختی کریں گے، کیونکہ باقی سب کچھ اِسی پر کھڑا ہے۔
یہاں کسی کی مدد اِس لیے نہیں ہوگی کہ وہ کسی کو جانتا ہے۔ نہ رشتہ داری، نہ کسی دوست کے دوست، نہ اِس لیے کہ کسی معتبر آدمی کا فون آ گیا۔ جسے ضرورت ہے وہ خود آئے گا اور اپنی بات خود کرے گا، اور فیصلہ ضرورت اور اہلیت پر ہوگا — اور کسی چیز پر نہیں۔
لوگ ناراض ہوں گے۔ کچھ تعلق ٹوٹیں گے۔ ہمیں منظور ہے، کیونکہ جس لمحے سفارش اندر آتی ہے، سب سے پہلے وہی عورت باہر رہ جاتی ہے جس کی طرف سے بولنے والا کوئی نہیں — اور یہ سب کچھ اُسی کے لیے ہے۔
آپ خود دیکھ سکیں گے
ہر تین مہینے بعد ہم بتائیں گے کہ کتنا آیا، کتنا گیا، اور اُس سے ہوا کیا۔ نہ نام، نہ تصویریں، نہ کسی کے بُرے وقت کے ساتھ اُس کا چہرہ — صرف حساب، صاف صاف۔
بھروسہ ہم آپ سے مانگ نہیں سکتے۔ ہمیں آپ کو وہ ذریعہ دینا ہوگا جس سے آپ خود پرکھ لیں۔
اگر آپ کو مدد چاہیے
ہمیں لکھیں یا واٹس ایپ کر دیں۔ جتنا بتانا چاہیں بتائیں، جتنا نہ بتانا چاہیں نہ بتائیں۔ نہ کسی حوالے کی ضرورت ہے، نہ کسی چٹھی کی، نہ کسی کی ضمانت کی۔
اور یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ آپ یہاں تک کیسے پہنچیں۔ وقت کسی پر بھی آ سکتا ہے۔ ہم آپ سے یہ ثابت کرنے کو نہیں کہیں گے کہ آپ واقعی تکلیف میں ہیں۔
اگر آپ مدد کرنا چاہتے ہیں
پیسہ سب سے چھوٹی چیز ہے۔ ہفتے میں دو گھنٹے کسی کو ہنر سکھا دیں۔ کسی کو اُس کا پہلا آرڈر دے دیں۔ ایک آدمی کو کام پر رکھ لیں۔ ایک بچے کی سال بھر کی فیس اٹھا لیں۔ کسی عورت کے پاس بیٹھ کر اُس کی بات سن لیں، جسے بہت عرصے سے کسی نے سنا نہیں۔
اور اگر اِن میں سے کچھ نہ ہو سکے — تو اپنا مصالحہ ہم سے خرید لیں۔ یہ بھی مدد ہے۔ دراصل یہ سارا کام اِسی سے چلتا ہے۔
اصل میں ہم چاہتے کیا ہیں
کہ جو عورت اِس دروازے پر نظریں جھکائے آئی تھی، وہ ایک دن واپس آئے — کسی اور کو کام دینے کے لیے۔
بس یہی پورا خواب ہے۔ اوپر لکھی ہوئی ہر بات صرف اُس تک پہنچنے کا طریقہ ہے۔
یہاں کوئی غریب نہیں، کوئی مجبور نہیں، کوئی پرایا نہیں۔ جو بھی آئے، عزت کے ساتھ آئے — اور جتنا لے کر آیا تھا، اُس سے کچھ زیادہ لے کر جائے۔